معصوم پاکستانی بچوں کی فحش فلموں کی ڈارک ویب پر فروخت کا انکشاف، لیکن ڈارک ویب دراصل کیا ہوتی ہے؟

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آپ جو انٹرنیٹ دن رات چلاتے ہیں، اس کے متعلق کتنی معلومات ہیں آپ کو؟؟؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ جتنا انٹرنیٹ آپ روز استعمال کرتے ہیں وہ کل انٹرنیٹ کا صرف 4 فیصد ہے۔۔۔؟ جی ہاں! اور اسے Surface Web یا lightweb کہتے ہیں۔۔۔!
اس کے بعد نمبر آتا ھے Deep Web کا، جو کل انٹرنیٹ کا باقی 96% ہے۔۔۔! یہ آپ کے استعمال میں موجود Surface Webسے 5000 ہزار گنا بڑا اور وسیع ہے، اس میں Surface Web استعمال کرنے والے ہر شخص، ہر ادارے اور ہر حکومت کی ہر قسم کی معلومات جمع ہیں۔۔۔! لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی!
کیونکہ Deep Web کا ایک حصہ ہے جو تمام انٹرنیٹ کا تھل ہے، وہ Dark web یا Black Netکہلاتا ہے۔۔۔! کوئی نہیں جانتا کہ یہ کتنا حجم رکھتا ہے، مگر یہاں دنیا کا ہر غیر قانونی و غیر انسانی کام ہوتا ہے۔۔۔! منشیات، اسلحہ اور عورت کی خرید و فروخت سے لے کر ایک انسان کو ذبح کر کے گوشت کھانے تک Deep Webعام براؤزر کے ذریعہ باآسانی کھل سکتی ہے مگر اسے کوئی سرچ نہیں کر سکتا۔
اس کے کھلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جس نے ڈیپ ویب کی وہ سائٹ بنائی ہے اس کا لنک جو چند الٹے سیدھے کوڈ نما الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اسے کسی بھی براﺅذر میں ڈال کر انٹر کردیا جائے تو سائٹ کھل جاتی ہے۔ جبکہ Dark Web کسی بھی عام براﺅذر سے کبھی بھی نہیں کھلتی ماسوائے ٹور پراجیکٹ نامی براﺅذر کے جس کی سائٹس کی ایکسٹینشنز onion ہوتی ہیں جو صرف ٹور براﺅزر پر ہی کھلتی ہے۔ اس کا بھی سائٹ لنک عجیب الٹے سیدھے کوڈ نما نمبرز پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا سائٹ کوڈ معلوم ہو تب ہی کھلتی ہے، مگر Tor کے کچھ اپنے سرچ انجن ہیں جن پر مطلوبہ سائٹ یا مطلوبہ ویڈیوز یا مطلوبہ مواد کو گوگل کی طرح سرچ کرکے باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔
اسی میں مزید ایک قدم آگے Red Roomsہے۔ جہاں بند کمروں میں دنیا کا بدترین تشدد دکھایا جاتا ہے۔جیسے زندہ انسانوں کی کھال اتارنا، آنکھیں نکالنا،  ناک، کان، آلہ تناسل وغیرہ کاٹنا، اس میں سلاخیں گھسانا وغیرہ وغیرہ۔اس سب کے بعد اس سب کا باپ Marianas Webہے۔ جسے نہ کوئی جان سکا نہ جانتا ہے اور نہ اس تک پہنچنا آسان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں دنیا کی چند بڑی طاقتوں کے قیمتی راز دفن ہیں جیسے اسرائیل امریکہ وغیرہ نیز اس کے ٹاپ آپریٹرز iluminaties  ہیں جہاں دنیا بھر کے الومناٹیز کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔
ڈارک ورلڈ میں ایک خاص قسم کی ویب سائٹس کو ریڈ رومز کہا جاتا ہے۔وہاں تک رسائی تقریبا ناممکن ہے۔ ڈارک ویب ورلڈ میں یہ سب سے خفیہ رومز ہیں۔۔۔ وہاں تک رسائی بنا پیسوں کے نہیں ہوتی۔  ان سائٹس پر جانور یا انسانوں پر براہ راست تشدد کیا جاتا ہے اور بولیاں لگائی جاتی ہیں۔ آپ بٹ کوئن کی شکل میں پیسے ادا کر کے فرمائش کر سکتے ہو کہ اس جانور یا انسان کا فلاں اعضاءنکال دو۔ حقیقی زندگی میں اگر آپ اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ریڈ رومز تک گئے ہو تو  آپ کو صرف وہاں جانے کے اعتراف پر بھی جیل جانا پڑے گا۔
ایسی ایک ویب سائٹ بھی موجود ہے جہاں پر یورپ بھر میں کسی کے بھی قتل کی سپاری دے سکتے ہیں۔ عام شخص کا قتل 20 ہزار یورو۔۔ صحافی کا قتل 70 ہزار یورو اور سلیبرٹی کے قتل کا ریٹ ایک لاکھ یورو سے شروع ہوتا ہے۔ایک ویب سائٹ کا کلیم ہے کہ وہ مردہ بچوں کی روحیں فروخت کرتے ہیں۔ پنک متھ ایک ویب سائٹ ہوتی تھی جو کہ 2014ءمیں ٹریس کر کے بین کر دی گئی۔ وہاں لوگ اپنی سابقہ گرل فرینڈز، بیوی سے انتقام کی خاطر ان کی عریاں تصاویر بیچتے تھے اور ویب سائٹس ان لڑکیوں کے نام، ہوم ایڈریس اور فون نمبر کے ساتھ یہ تصاویر شیئر کرتی تھی۔
اس ویب سائٹ کی وجہ سے چار سے زیادہ لڑکیاں خود کشی کر چکی تھیں۔ لیکن یہ ویب سائٹ باز نہیں آئی۔ ایف بی آئی نے 2014ءمیں اس کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور اس کا سرور ٹریس کر کے بند کر دیا۔ مالکان آج تک فرار ہیں۔ (ویب سائٹ چونکہ اب آپریٹ نہیں کرتی اس لئے نام بتا دیا)۔ڈارک ورلڈ یا ڈیپ ورلڈ میں کچھ ایسی گیمز بھی پائی جاتی ہیں جو عام دنیا میں شاید بین کر دی جائیں۔ایسی ہی ایک خوفناک گیم کا نام "سیڈستان (شیطان)" ہے۔ اس گیم کے گرافکس اس قدر خوفناک ہیں کہ عام دنیا میں کوئی بھی گیم سٹور اس گیم کی اجازت نہیں دے گا۔
انسانی سمگلنگ کا سب سے بڑا گڑھ ڈارک ویب ورلڈ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں خواتین کو بیچنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ جوزف کاکس جو کہ ایک ریسرچر ہیں وہ  2015ء میں ڈیپ ویب ورلڈ پر ریسرچ کر رہے تھے۔ ایسے میں اسی ورلڈ میں ان کا ٹاکرا ایک گروپ کیساتھ ہوا جس کا نام "بلیک ڈیتھ" تھا اور انہوں نے جوزف کو ایک عورت بیچنے کی آفر کی جس کا نام نکول بتایا اور وہ گروپ اس عورت کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالرز مانگ رہا تھا۔
کینی بال یعنی آدم خوروں کا ایک فورم ہے جہاں کے اراکین ایک دوسرے کو اپنے جسم کے کسی حصے کا گوشت فروخت کرتے ہیں۔ جیسا پچھلے دنوں وہاں ایک پوسٹ لگی جس کے الفاظ یہ تھے” کیا کوئی میری ران کا آدھا پاونڈ گوشت کھانا چاہے گا؟ صرف پانچ ہزار ڈالرز میں۔ اسے خود کاٹنے کی اجازت ہو گی۔“
جہاز تباہ ہونے کے بعد بلیک باکس (جہاز کا ایک آلہ) تلاش کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ ایسے میٹریل سے بنا ہوتا ہے جو تباہ نہیں ہوتا۔ اس بلیک باکس میں پائلٹ اور کو پائلٹ کی آخری ریکاڈنگز ہوتی ہے۔ اس سے پتا چل جاتا ہے کہ تباہ ہونے سے پہلے کیا ہو اتھا۔ ایک ویب سائٹ پر تباہ شدہ جہازوں کی آخری ریکاڈنگز موجود ہیں۔ وہاں نائن الیون کے جہاز کی آڈیو فائل بھی موجود ہے۔ایک ویب سائٹ جوتے، پرس، بیلٹ وغیرہ بیچتی ہے اور ان کا یہ دعوی ہے کہ یہ انسانی کھالوں سے بنے ہیں۔ لکھنے کو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ آپ اس بارے بزنس انسائیڈر، ریڈٹ، یا مختلف فورمز پر آرٹیکلز بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن ڈارک ویب ورلڈ ایسی گھناونی دنیا ہے جس کے بارے بس اتنا سا ہی جاننا ضروری ہے۔
Share on Google Plus

About Voice of Taxila News

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.

0 Comments:

Post a Comment