استقامت کی تلاش ۔۔۔۔تحریر: ڈاکٹر خالد فواد الازہری


گردوپیش کے احوال و وقائع کو بارییک بینی سے دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے مبادا ایسا نہ ہو کہ انسان عدم واقفیت کی وجہ سے معاشرے کی بقا و دوام کیلئے ضروری امور سے منحرف ہوجائے۔تاریخ میں ایسی بہت سی امثال محفوظ و مکتوب ہیں۔جب اسلام مصفاء و مطہر فکر و دعوت کو لیکر ظاہر ہوا تو اس نے بہت سے انحرافات جو زندگی کے مختلف شعبوں اور میدانوں میں پھیلے ہوئے تھے سے نبرد آزمائی کی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے الحادیت اور غیرفطری و غیرحقیقی اعتقادات کو ترک کرنے کا حکم دیا ۔پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان کے وجوب کو ثابت کرنے کیلئے ظاہری و باطنی مادی و روحانی دلائل کے ذریعہ سے مدلل کردیا گیا اس کیلئے قرآن کریم اور سنت نبوی میں واضح آیات و بین احادیث وارد ہوئی ہیں۔اسی طرح اسلام نے اللہ تعالیٰ کے وجود سے متعلق باطل خیالات و اوہام کی بھی سختی سے نفی کردی کہ کوئی اللہ کو انسانوں سے تشبیہ دیتا تھا تو اس کے اس غلو و تشدد پر مبنی عقیدہ کی نفی قرآن کریم کی سورۂ الاخلاص میں کردی گئی کہ’’کہو اللہ ایک ہے ،وہ بے نیازہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اورنہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے‘‘اسی طرح ارشاد باری عزووجل ہے کہ’’اور نہیں کوئی شئی اس جیسی اور وہ سننے والے اور دیکھنے والا ہے‘‘۔یہ نفی اس لئے بیان کردی گئی کہ اس طرح کی باطل تفسیروں کے نتیجہ میں خطرناک قسم کے غلط عقائد معاشرے میں مروج ہوجاتے ہیں۔جیساکہ کہا جاتاہے کہ گناہ کرنے سے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی نقصان ہوتاہے۔یہ سہل پسندی و خود فریبی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کا غلط مفہوم لیکر گناہ گاروں کی حوصلہ شکنی کی بجائے ہمت افزائی کا پہلو اجاگر کیا جاتاہے۔فی الحقیقت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بین انداز میں پیغام دیدیا کہ’’ لوگوں کو بتادیجئے کہ میں ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہو،اور میرا عذاب وہ بھی دردناک عذاب ہے‘‘۔اور اللہ تعالیٰ تاکید اً متنبہ کرتے ہیں ان لوگوں کو جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ’’جس دن ہر نفس(شخص)اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا ،آرزوکرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی ،اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرارہاہے‘‘۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے آباو اجداد سے برئی عادات و اطوار اور تقالید اختیار کرنے سے منع کردیاہے کہ اس کے سبب سماج میں تطور و تقدم کا پہلو معدوم ہوجاتاہے اور انسانی حیات میں بہت سے جرائم ایسے رونما ہوتے ہیں جو صرف اور صرف اپنے بڑوں کی تقلید میں سرانجام دیئے جاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا تو ہم بھی اس کو لازم جانتے ہیں ۔باوجود اس کے کہ اسلام نے تو سلامت فکر اور راست روی کی دعوت ہر شخص کو دی ہے اور یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جو کوئی آباواجداد کی غلط امور میں تقلید کرکے ان کو اپنے کیے کا ذمہ دار نہیں بتلا سکتا کیونکہ ہر شخص اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔یعنی انسان جو کچھ کرے کا اس کے بارے میں اسی سے حساب و کتاب ہوگی۔جیسے ارشاد اللہ جل شانہ ہے’’ہرشخص اپنے اعمال کے بدلہ میں گروی ہے،بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے، اگرچہ کتنے ہی بہانے پیش کرے‘‘گویا ثابت ہوگیا کہ کسی کو نجات و چھٹکارا اس کے کئے سے اس لئے نہیں مل سکتا کہ اس کے بڑوں نے ایسا کیا۔یعنی اعزہ و اقارب اگر گمراہی و ظلمت میں جی رہے ہیں اور اس طرح کا واقعہ قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان ہواہے کہ ’’اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں ک�آسودہ حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راہ پر اور)ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پاکی پیروی کرنیوالے ہیں،(نبی نے )کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود پہنچانے والا)طریقہ لے کر ٓیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیاہے،پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟‘‘اسی طرح ایک اور انحراف جس سے اسلام نے منع کیا ہے وہ یہ ہے کہ مذہبی شخصیات کو بطور دلیل پیش کردیا جائے یعنی ایسے علماء سوء بھی موجود ہیں جو دین کی اپنی ہوا اور ہوس کے مطابق غلط تشریح و تفسیر بیان کرتے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ایسے لوگ جو گمان و غیر مصدقہ رائے پر فتویٰ دیتے اور ایسے فتوے پر عمل کرتے ہیں کہ یقین کا ان کے قریب سے بھی گذر نہیں تو انہی کے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’بیشک یہ لوگ گمان کی پیروی کرتے ہیں، اور گمان حق سے کسی طرح مستغنی نہیں کرسکتا‘‘۔انحرافات کا دریچہ اس لئے بھی کھل جاتاہے کہ انسان فکر و تدبر اور عقل کو استعمال میں لانے سے باز رہ جاتاہے ۔ہم پر ضروری ہے کہ ہم کوئی بھی عمل کرنے سے بیشتر جمہور فقہاء کے مؤقف سے شناسائی حاصل کریں اور یہ دیکھیں کہ انہیں جو مسئلہ بتایا گیا ہے کیا اس میں کوئی صریح نص اس کی تقویت کررہی ہے یا نہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ علماء سلف کے مؤقف سے ہٹ کر اور قرآن و سنت کو ترک کرکے اپنی ذات و جماعت یا گروہ اور کسی مصلحت کے تحت غلط مسئلہ بیان نہ کیا جارہاہو۔اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں علم کا وسیع و عمیق مطالعہ کرنا ہوگا۔اور دین برحق نے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا ہے کہ اجتہادی آراء سے معتلق شدت پسندی اختیار کی جائے کیونکہ ایسا کرنے کے سبب معاشرے میں بہت بڑے فتنہ کا ظہور ہوجائے گا۔اللہ نے ارشاد فرمایا’’نہ جھگڑاکرو ہزیمت پاؤگے اور تمہارارعب و دبدبہ جاتارہے گا‘‘۔گویا دین میں بیجا سختی و غلو کرنے کی وجہ سے معاشرہ منتشرہوجائے گا جوکہ ملت کی بقاو دوام کیلئے ضرررساں ہے اور ضرورت تو اس امر کی ہے کہ شریعت کے بنیادی اصولوں پر مضبوطی کے ساتھ عمل کیا جائے اور معاملاتی زندگی و فقہی مسائل میں رواداری و برداشت کو اختیار کیا جائے۔ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری زندگی میں ن بہت سے ایسے مسائل ہیں جن میں سے بہتر کو اختیار کرنا اچھی بات ہے یعنی ایسی آراء جن کے بارے میں کوئی قطعی نص موجود نہیں تو اس کو سمجھنے کیلئے اجتہاد کی بھی ضرورت نہیں بلکہ جو بہتر معلوم ہواس کو اختیار کرلیا جائے۔اسی طرح بعض ایسے امور بھی موجود ہوتے ہیں جن میں اجتہاد کی ضرورت و حاجت ہوتی ہے تو اس میں بنیادی اصول یہ ہے کہ جو کوئی شخص اجتہاد کرے اور اس سے حقیقی معنی کی دریافت کرلے تو اس کیلئے دونیکیاں ہیں اور اگر وہ صحیح مسئلہ دریافت نہ کرپائے تو کوشش کرنے کی وجہ سے اس کو بھی ایک نیکی ملے گی۔اسی طرح اس بات کو بھی یقینی طور پر اختیار کیا جائے کہ زندگی کے مراحل میں فیصلہ لیتے وقت بھی اپنی ڈھارس و خواہش کو ترجیح دینے کی بجائے ضروری ہے کہ بچوں اور انکی والدہ کو اسلام کی طرف سے مہیا ہونے والی آزادی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کیا جائے۔اگر چہ یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ جو کچھ ماسبق میں کلام کیا گیا ہے مشہور و معروف ہے مگر تذکیر و یاددہانی ضروری اس لئے ہے کہ آج بھی گھریلوزندگی ہویا معاشرتی وو معاملاتی اور ادارتی زندگی سبھی مراحل میں ان انحرافات کا ارتکاب کیا جاتاہے اس لئے ضروری ہے کہ دین کی صحیح فکر و معرفت نا صرف حاصل کی جائے بلکہ اس پر عمل بھی کیا جائے ۔یعنی جب کبھی موقع میسر آئے کسی کو دین حق کی دعوت دینے کا تو ایسا انداز محبت و مودت اور رواداری کا اختیار کیا جائے کہ لوگ آغوش اسلام میں پناہ حاصل کرنے کو اطمینان و سکون کا ذریعہ سمجھیں اور دعوت کوو آسان و سادہ زبان میں پیش کیا جانا چاہیے تصنع اور لفاظی سے محترز ہونا ضروری ہے ۔اس میں بھی کوئی عیب نہیں کے سابقہ ازمنہ کی نفع مند چیز کو اختیار کیا جائے اور زمانہ جدید کی صالح و درست شئی کو بھی قبول کرلیا جائے۔یعنی جب اصول و مبادی کی بات ہوتو اس میں سختی کے ساتھ مواضبط کا رویہ رکھا جائے گا اور فروعی و جزئی مسائل میں برداشت کو۔نہ کسی کو تنگ کیا جائے اور نہ ہی کسی انسان سے منافقت کی جائے اور نہ ہی جھگڑا کرنے و عداوت پالنے کو قریب آنے دیا جائے کیونکہ ہم اسلام کی دعوت کا علم بلند کرنے والوں میں سے ہیں اور لازمی بات ہے کہ ہم عنقریب تبدیل ہوجائیں گے۔
Share on Google Plus

About Dr Syed Sabir Ali

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.

0 Comments:

Post a Comment