لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کھو کھاتے چائنہ مارکیٹ راولپنڈی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری


راولپنڈی( بیورورپورٹ)لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے غیر قانونی تعمیرات پر عائد پابندی کے بر عکس چائنہ مارکیٹ میں سیٹ بیک اور پارکنگ چھوڑے بغیرخلاف نقشہ 2 کمرشل پلازوں کی دھڑا دھڑ تعمیر کا سلسلہ جاری ہے جس سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے تاہم چیف میونسپل آفیسر سمیت متعلقہ حکام نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔تفصیلات کے مطابق لیاقت باغ چوک کے قریب مری روڈ کی بیک سائیڈ چائنہ مارکیٹ میں گلی کی نکڑ پر 2 کمرشل پلازوں کی غیر قانونی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق مالک پلازہ نے میونسپل کارپوریشن کے بعض کرپٹ اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے پہلے ایک کارنر پر سیٹ بیک چھوڑے بغیر پلازہ بنایا اور گلی کی دوسری سائیڈ پر پارکنگ چھوڑی تھی لیکن اب گلی کی دوسری نکڑ پر سیٹ بیک چھوڑے بغیر مسجد بنانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ پارکنگ والی جگہ پر بیسمنٹ بنالی گئی ہے اور اوپرکمرشل تعمیرات کی جارہی ہیں جب اس سلسلے میں مذکورہ پلازہ مالک نوروز خان سے رابطہ کی کوشش کی گئی تووہاں موجود اعظم نامی نگران نے بتایا کہ ہم بیسمنٹ کے اوپر پارکنگ بنارہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پلازہ مالک نے ضلعی انتظامیہ سے تاحال مسجد بنانے کی باقاعدہ منظوری نہ لی ہے جبکہ سیٹ بیک اور پارکنگ چھوڑے بغیر پلازہ کی غیر قانونی تعمیر جاری ہے،میونسپل کارپوریشن کے کرپٹ افسران اور اہلکاروں نے مبینہ طور پر بھاری نذرانہ لیکر آنکھیں بند کررکھی ہیں،یادرہے راولپنڈی میں مسجد بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر سے منظوری درکار ہوتی ہے اور اس سلسلے میں قائم کیا گیا بورڈ اور اس کے اراکین جب تک منظوری نہ دیں کسی بھی جگہ مسجد تعمیر نہیں کی جاسکتی لیکن یہاں مسجد کی آڑ میں غیر قانونی تعمیر کرکے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے،شہریوں نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات کی تحقیقات کرانے اور سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے جیبیں بھرنے والے ذمہ داران کرپٹ افسران کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Share on Google Plus

About Dr Syed Sabir Ali

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.

0 Comments:

Post a Comment