جمیل آباد گلی نمبر 16 میں سیوریج کے کھے مین ہول موت کو دعوت دینے لگے ،انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگی،جمیل آباد کے مکینوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا،کنٹونمنٹ بورڈ واہ کینٹ اور بلدیہ ٹیکسلا کے درمیان حدود کا تنازعہ مکینوں کے لئے وبال جان بن گیا حادثات رو زمرہ کا معمول بن گئے


ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی سے)جمیل آباد گلی نمبر16میں سیوریج کے کھلے مین ہول اہلیان علاقہ کے لئے وبال جان بن گئے ھدود کی جنگ نے عوام کو کینٹ بورڈ واہ کینٹ اور بلدیہ ٹیکسلا نے رولنگ سٹون بنا لیا ،جمیل آباد کا مذکورہ علاقہ کنٹونمنٹ بورڈ واہ کینٹ یا بلدیہ ٹیکسلا کی حدود میں ہے تعین نہ ہو سکا اہلیان علاقہ کی کوئی شنوائی نہیں کھلے مین ہول کسی بڑے حادثے کا موجب بن سکتے ہیں علاقے میں صفائی پر مامور راولپنڈی ویسٹ منیجمنٹ کمپنی بھی خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ،حادثات روزمرہ کا معمول بن گئے متعددبچے،بوڑھے،خواتین کھلے مین ہول میں گر کر زخمی ہو چکے ہیں شکایات کے باؤجود انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی،راہ گزر میں سیوریج کے کھلے مین ہول موت کو دعوت دینے لگے سیوریج کا نظام درہم برہم ابلتے گٹر گلی میں ندی نالے کا منظر پیش کرنے لگے بلدیہ ٹیکسلا اور کنٹونمنٹ بورڈ واہ کینٹ کے درمیان حدود کی جنگ نے اہلیان علاقہ کو ناکوں چنے چبوا دیئے اہلیان علاقہ کا سنگین ترین مسلے پر اعلیٰ احکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق جمیل آباد گلی نمبر16 میں گھمبیر صورتحال نے اہلیان علاقہ کی نیندیں اڑا دیں متاثرہ افراد عمران خان،ناصرخان،شاہد خان،ملک صمد،عابد علی،کامران کامی،محمد نسیم،حبیب اللہ و دیگرنے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ گلی میں موجود سیوریج کے سات آٹھ مین ہول عرصہ دراز سے کھلے پڑے ہیں جبکہ سیوریج کا نظام چوک ہونے سے سیوریج کا گندا پانی گلی میں پھیل رہا ہے جس سے اہلیان علاقہ کو نہ صرف آمدورفت میں پریشانی کا سامنا ہے بلکہ ان کھلے مین ہولز میں متعدد بچے،جوان،بوڑھے،خواتین گر کر زخمی ہو چکے ہیں حادثات کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اوپر سے ستم طریفی مقامی انتظامیہ نے چپ سادھ رکھی ہے شکایت لے کر جب کنٹونمنٹ بورڈ واہ کینٹ جاتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ یہ ہماری حدود نہیں جب بلدیہ ٹیکسلا جاتے ہیں تو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہماری حدود نہیں اہلیان علاقہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مسائل لیکر کس کے پاس جائیں اور کس کو اپنی فریاد سنائیں کوئی ادارہ بھی ہماری داد رسی کرنے کو تیار نہیں کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں یا پھر ہم علاقہ غیر میں رہتے ہیں رہائشیوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کے موقع پر تو امیدوار ہمارے دروازے کٹھکٹھاتے ہیں لیکن جب مسائل حل کرنے کی باری آتی ہے تو یہی نما ئندے آنکھیں چراتے نظر آتے ہیں اہلیان علاقہ نے چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعظم پاکستان،ڈی سی او راولپنڈی اور ڈی جی کنٹونمنٹ بورڈ سے اپیل کی ہے کہ ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کو درپیش مسائل سے چھٹکارہ دلانے کے لیئے اپنا کردار ادا کریں۔
Share on Google Plus

About Dr Syed Sabir Ali

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.

0 Comments:

Post a Comment